ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / سداپور: کانسور۔ مادنکل نئے برج کی تعمیر سے عوام مشکلات میں گھرگئے : زیادہ بارش ہونے پر کئی دیہات کے حالات ہوسکتے ہیں سنگین

سداپور: کانسور۔ مادنکل نئے برج کی تعمیر سے عوام مشکلات میں گھرگئے : زیادہ بارش ہونے پر کئی دیہات کے حالات ہوسکتے ہیں سنگین

Thu, 23 Jun 2022 20:44:39    S.O. News Service

سداپور:23؍ جون   (ایس اؤ نیوز)عوام اور خاص کر اسکول و کالج کے طلبا نے سوچا تھا کہ بارش کاموسم شروع ہونے سے پہلے ہی مادنکل برج تعمیر ہوجائےگا۔ کانسور پہنچنے کےلئے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔لیکن فی الحال برج کاتعمیری کام ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ دن گزرتے بارش میں تیز ی آنے کے پورے امکانات ہونےکی وجہ سے عوام متفکر نظر آرہے ہیں۔

کانسور سے مادنکل برج کے بغیر  دیویسر،امچی، اریہلی ، ہلگیسر، بسلکوپا، امبلی ، کوپا ، گٹیکئی، گرگڈے ، کبگارو، برور جیسے گاؤں پہنچنا بہت مشکل ہے۔ متعلقہ گاؤں میں 500سے زائد گھر ہیں اور کانسور پہنچنا ہے تو قریب 10کلومیٹر کاراستہ طئے کرنا ہوگا۔ اس علاقے کے کسانوں کو  سپاری ، موز، ناریل  سمیت اپنی کاشت کی ہوئی  فصلوں کی فروخت کاری کے لئے کافی مصیبت اٹھانی پڑ رہی ہے۔ کیونکہ کانسور میں ٹی ایم ایس کا سپاری خرید نےکا مرکز ہے۔ کسانوں کو اپنا دھان کانسور  کی مل میں فروخت کرنا ہے تو تین گنا خرچ کرنا ہوگا۔ پرانا برج منہدم کرنےکی وجہ سے علاقےکے عوام پچھلے ایک برس سے مشکلات کو جھیل رہے ہیں۔ کانسور کی پرائمری اسکول، ہائی اسکول کو جانا ہےتو طلبا کے لئےمادنکل کےذریعے جاتےہوئےحیران پریشان ہورہےہیں۔ پھر وہاں سے نانی کٹا، سرسی ، سداپور کی کالجوں کو جانے والےطلبا کے حالات بھی کچھ الگ نہیں ہیں۔ نالےمیں پانی سوکھ جانے سے وہیں بازومیں مٹی سے بنےمنڈیر کے ذریعے طلبا اور عوام آجار ہےہیں۔ اگر بارش زیادہ ہوتی ہےتو یہ پیدل راستہ بھی بند ہونے کا خدشہ ہے۔

رام کرشنا ہیگڈے کے زمانےکا : کانسور بازارکے ایک حصے سے رابطہ پیدا کرتے ہوئے مادنکل علاقےمیں بہنے والی ندی میں شامل ہونےوالانالہ ’مادنکل نالہ ‘کہلاتاہے۔ کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ رام کرشنا ہیگڈے کی وزارت کے زمانےمیں اسی مادنکل نالہ پربرج تعمیر کیاگیاتھا۔ برج خستہ ہونےکی وجہ سے پرانےبرج کو منہدم کرکے نئے برج کی تعمیر کی جارہی ہے۔ اس زمانےمیں تعمیر کردہ برج بہت مضبوط تھا جس کے انہدام میں کافی محنت لگی۔ پرانا برج مزید عوام کےلئے سہولت دے سکتاتھا اس کا انہدام ٹھیک نہیں ہونےکی بات عوامی سطح پر کہی جارہی ہے۔

کسانوں کا دکھڑا:کسانوں کا کہنا ہےکہ ہمیں  دھان لے کر کانسور بازار کے  مل پہنچنا ہوتاتو پہلے ہمیں 300سے 350روپئے خرچ کرنا ہوتاتھا۔ اب پرانا برج گراکر نئے برج تعمیر کئے جانے کی وجہ سے مل پہنچنا ہےتو گھوم پھر کر پہنچنے میں کم سے کم 900روپئے سواری کے کرایے کےلئے  خرچ ہورہےہیں۔ دھان کی فصل میں کچھ زیادہ منافع تو نہیں رہتا اب حالات کی وجہ سےمنافع تو دور کی بات نقصان ہونے کا کسان منجوناتھ نائک نے دکھڑاسنایا۔


Share: